Select Menu

کومینٹ

نئے مجوزہ قانون محنت میں ملازمت کا معاہدہ اہم

 

سعودی عرب میں محنت کے قانون میں مجوزہ تبدیلی جس کا نفاذ 14 مارچ 2021 سے ہو گا میں اہم عنصر’ملازمت کا معاہدہ‘ ہے۔
اس حوالے سے ’لیبر لا‘ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض اہم نکات جسے جاننا ہے ان میں معاہدہ ملازمت میں 
درج کی جانے والی شرائط ہیں
قانون کی رو سے معاہدے کو وزارت سے تصدیق کے بعد ہی اسے تسلیم کیا جائے گا یعنی تصدیق کے بعد ہی اس معاہدے کی اہمیت ہوگی۔ اس لیے معاہدے سے قبل اچھی طرح اس کا مطالعہ کرنا ضروری ہے۔ 
وزارت افرادی قوت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے قانون میں ’کفالہ‘ سسٹم ختم ہو جائے گا اس کی جگہ ایگریمنٹ ہو گا۔ 
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے قانون میں ملازمت کا معاہدہ اہم ہو گا جس میں تمام نکات درج ہوں گے۔ معاہدے کی تصدیق کے بعد اس کی پاسداری کرنا فریقین کے ذمے ہوگی۔ 
  نئے قانون کے حوالے سے لیبر لا سے متعلق قانونی ماہرین کا کہنا تھا کہ نیا نظام 14 مارچ سے نافذ العمل ہو گا۔ اس اعتبار سے معاہدہ ملازمت اس وقت ہی فعال تصور کیا جائے گا جبکہ پہلے والے معاہدے منسوخ ہوجائیں گے۔
 جب تک سرکاری سطح پر قانون کا نفاذ نہیں کردیا جاتا معاملات مکمل نہیں ہوں گے۔ قانون کے نفاذ کے بعد معاہدے کی منظوری اور وزارت سے اس کی تصدیق کے بعد ہی وہ قابل قبول و عمل ہوگا۔ 
معاہدہ ملازمت کے حوالے سے یہ جاننا ضروری ہے کہ وزارت محنت کے پورٹل ’مدد‘ میں آجرکا اکاونٹ بنایا جاتا ہے جس میں معاہدہ ملازمت اور شرائط طے کرنے کے بعد کارکن کو معاہدے کا لنک ارسال کیاجاتا ہے جسے دیکھنے کے بعد اگرکسی نکتے پر اعتراض ہوتویہ کارکن کا حق ہوگا کہ وہ اسے رد کرے۔ 
معاہدے کو رد کرنے کی صورت میں وجہ بھی بیان کرنا ہوگی کہ کس وجہ سے معاہدہ کو رد کیا گیا۔
اگرمعاملہ اجرت کا ہے یعنی مثال کے طورپر ماہانہ تنخواہ زبانی طورپر طے کرنے کے بعد معاہدے میں کم درج کی جانے کی صورت میں اس امر کی نشاندہی کی جائے گی۔
علاوہ ازیں ’ ورکنگ آوورز‘ یعنی کام کا دورانیہ زیادہ لکھا گیا ہے یا سالانہ چھٹی اور دیگر مراعت کے بارے میں اختلاف ہو تو اسے بیان کرکے شرائط طے کرنا اور دونوں جانب یعنی آجر اوراجیر معاہدے کو منظور کریں گے۔ 
نئے قانون محنت میں آجر واجیر دونوں کے حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے۔ 


خمیس مشیط پر حوثیوں کا بیلسٹک میزائل حملہ

 


عرب اتحاد برائے یمن  نے کہا ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی دہشتگردوں نے خمیس مشیط پر جمعرات کو بیلسٹک میزائل سے حملے کی کوشش کی تھی- جسے ہدف تک پہنچنے سے قبل ہی تباہ کردیا گیا-
الاخباریہ اور الوطن کے مطابق عرب اتحاد  کے ترجمان ترکی المالکی نے کہا ہے کہ حوثی دہشتگرد شہریوں اور سول تنصیبات کو نقصان پہنچانے کے لیے مسلسل منصوبہ بند طریقے سے جان بوجھ کر دہشتگردانہ حملے کررہے ہیں-
عرب اتحاد برائے یمن نے خبرادار کہا ہے کہ دہشت گردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور اسے نافذ کرنے والوں کا کڑا  احتساب کیا جائے گا-
یاد رہے کہ حوثیوں  نے آج صبح خمیس مشیط پر بارودی ڈرون سے حملے کی کوشش کی تھی جسے ہدف  تک پہنچنے سے قبل ہی گرا کر تباہ کردیا گیا تھا-