Select Menu

کومینٹ

نئے مجوزہ قانون محنت میں ملازمت کا معاہدہ اہم

 

سعودی عرب میں محنت کے قانون میں مجوزہ تبدیلی جس کا نفاذ 14 مارچ 2021 سے ہو گا میں اہم عنصر’ملازمت کا معاہدہ‘ ہے۔
اس حوالے سے ’لیبر لا‘ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض اہم نکات جسے جاننا ہے ان میں معاہدہ ملازمت میں 
درج کی جانے والی شرائط ہیں
قانون کی رو سے معاہدے کو وزارت سے تصدیق کے بعد ہی اسے تسلیم کیا جائے گا یعنی تصدیق کے بعد ہی اس معاہدے کی اہمیت ہوگی۔ اس لیے معاہدے سے قبل اچھی طرح اس کا مطالعہ کرنا ضروری ہے۔ 
وزارت افرادی قوت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے قانون میں ’کفالہ‘ سسٹم ختم ہو جائے گا اس کی جگہ ایگریمنٹ ہو گا۔ 
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے قانون میں ملازمت کا معاہدہ اہم ہو گا جس میں تمام نکات درج ہوں گے۔ معاہدے کی تصدیق کے بعد اس کی پاسداری کرنا فریقین کے ذمے ہوگی۔ 
  نئے قانون کے حوالے سے لیبر لا سے متعلق قانونی ماہرین کا کہنا تھا کہ نیا نظام 14 مارچ سے نافذ العمل ہو گا۔ اس اعتبار سے معاہدہ ملازمت اس وقت ہی فعال تصور کیا جائے گا جبکہ پہلے والے معاہدے منسوخ ہوجائیں گے۔
 جب تک سرکاری سطح پر قانون کا نفاذ نہیں کردیا جاتا معاملات مکمل نہیں ہوں گے۔ قانون کے نفاذ کے بعد معاہدے کی منظوری اور وزارت سے اس کی تصدیق کے بعد ہی وہ قابل قبول و عمل ہوگا۔ 
معاہدہ ملازمت کے حوالے سے یہ جاننا ضروری ہے کہ وزارت محنت کے پورٹل ’مدد‘ میں آجرکا اکاونٹ بنایا جاتا ہے جس میں معاہدہ ملازمت اور شرائط طے کرنے کے بعد کارکن کو معاہدے کا لنک ارسال کیاجاتا ہے جسے دیکھنے کے بعد اگرکسی نکتے پر اعتراض ہوتویہ کارکن کا حق ہوگا کہ وہ اسے رد کرے۔ 
معاہدے کو رد کرنے کی صورت میں وجہ بھی بیان کرنا ہوگی کہ کس وجہ سے معاہدہ کو رد کیا گیا۔
اگرمعاملہ اجرت کا ہے یعنی مثال کے طورپر ماہانہ تنخواہ زبانی طورپر طے کرنے کے بعد معاہدے میں کم درج کی جانے کی صورت میں اس امر کی نشاندہی کی جائے گی۔
علاوہ ازیں ’ ورکنگ آوورز‘ یعنی کام کا دورانیہ زیادہ لکھا گیا ہے یا سالانہ چھٹی اور دیگر مراعت کے بارے میں اختلاف ہو تو اسے بیان کرکے شرائط طے کرنا اور دونوں جانب یعنی آجر اوراجیر معاہدے کو منظور کریں گے۔ 
نئے قانون محنت میں آجر واجیر دونوں کے حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے۔ 


خمیس مشیط پر حوثیوں کا بیلسٹک میزائل حملہ

 


عرب اتحاد برائے یمن  نے کہا ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی دہشتگردوں نے خمیس مشیط پر جمعرات کو بیلسٹک میزائل سے حملے کی کوشش کی تھی- جسے ہدف تک پہنچنے سے قبل ہی تباہ کردیا گیا-
الاخباریہ اور الوطن کے مطابق عرب اتحاد  کے ترجمان ترکی المالکی نے کہا ہے کہ حوثی دہشتگرد شہریوں اور سول تنصیبات کو نقصان پہنچانے کے لیے مسلسل منصوبہ بند طریقے سے جان بوجھ کر دہشتگردانہ حملے کررہے ہیں-
عرب اتحاد برائے یمن نے خبرادار کہا ہے کہ دہشت گردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور اسے نافذ کرنے والوں کا کڑا  احتساب کیا جائے گا-
یاد رہے کہ حوثیوں  نے آج صبح خمیس مشیط پر بارودی ڈرون سے حملے کی کوشش کی تھی جسے ہدف  تک پہنچنے سے قبل ہی گرا کر تباہ کردیا گیا تھا-

کورونا کے متعلق اچھی خبر جس کا ہم سب کو انتظار تھا

 

سعودی ماہرمتعدی امراض ڈاکٹر سمیح غزال نے توقع ظاہر کی ہے 
سعودی ماہرمتعدی امراض ڈاکٹر سمیح غزال نے توقع ظاہر کی ہے کہ آئندہ دو سے تین ہفتوں کے اندر کورونا کیسز میں کمی ہو گی تاہم اس کےلیے لازمی ہے کہ ہر شخص اپنی جگہ رہتے ہوئے ضوابط پر سختی سے عمل کرے۔ 
الاخباریہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر سمیح غزال کا کہنا تھا کہ ’کورونا کے حوالے سے ہمارا گزشتہ تجربہ انتہائی کامیاب رہا ۔ مجھے یقین ہے کہ مملکت میں قائم مثالی نظام صحت جلد اس وبائی مرض کو پھیلنے سے روکنے میں کامیاب ہو جائے گی جس طرح سابقہ وبا کے دوران ہوا تھا‘۔ 
انہوں نے مزید کہا کہ توقع کے مطابق موجودہ کورونا کی وبا کے تحت کیسز میں آئندہ دو ہفتے تک اضافہ ہو گا اس کے بعد کیسز میں اضافہ ہونا رک جائے گا اور تیسرے ہفتے کے بعد سے کیسز میں کمی ہونا شروع ہوگی۔ 
الاخباریہ چینل کے اس سوال پر کہ کیا ہم کرفیو یا لاک ڈاون کی جانب جاسکتے ہیں؟
ڈاکٹر غزال کا کہنا تھا کہ احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنا ہو گا جبکہ ہمارا صحت کا نظام انتہائی مستحکم ہے اور ہر قسم کے حالات اوروائرس کے پھیلاو پر قابو پانے کی بھرپورصلاحیت کا حامل ہے۔ 
انہوں نے مزید کہا ’اگر ہم آج سخت اقدامات نہیں کرتے توہم اس وبا کو پھیلنے سے نہیں روک سکیں گے تاہم جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں اس کے مطابق ہر کوئی اپنی حد تک قواعد پر عمل کرنے کےلیے مستعد ہے اور ہم دوبارہ کرفیو یا جزوی کرفیو کی جانب نہیں جائیں گے‘۔ 
واضح رہے العربیہ ٹی وی نے ریاض کے قدیم علاقے ’منفوحہ‘ میں ہونے والے ازدحام کی فوٹیج دکھائی تھی جہاں خوانچہ فروشوں کے گرد لوگوں کا ہجوم تھا جس کی وجہ سے سماجی فاصلے کے اصول پرعمل ممکن نہیں رہا تھا جبکہ لوگ ماسک کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں بھی لاپرواہی برت رہے تھے۔

جرائم اور گرفتاریاں، محکمہ امن عامہ کی رپورٹ

 

سعودی عرب میں محکمہ امن عامہ کی جانب سے رواں ہفتے ہونے والے بعض جرائم کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں نے ایک سعودی اور پانچ یمنیوں کو چوری کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ 
ملزمان نے مختلف دکانوں میں نقب لگا کر وہاں سے تقریبا 2 لاکھ 80 ہزار ریال چوری کیے تھے۔ 


امن عامہ کی جانب سے جاری ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ پولیس نے ایک شہری کو عوامی مقام پر ہوائی فائرنگ کرنے کے الزام میں حراست میں لیا جبکہ ایک سعودی کو سوشل میڈیا پر کم عمر بچے سے نازیبا گفتگو کرنے پر گرفتار کیا ہے۔ 
پولیس اہلکاروں نے رہائشی علاقے میں ہوائی فائرنگ کرنے کے الزام میں ایک اور شہری کو حراست میں لیا جس کی ویڈیو وائرل ہو گئی تھی جبکہ گاڑیاں چرانے کے الزام میں ایک سعودی اور اس کے شریک جرم یمنی کو حراست میں لیا گیا۔ 
ایک شخص سےاسلحے کے زور پر گاڑی چھیننے اور اسے مسلح ڈکیتی میں استعمال کرنے پر دو شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

توکلنا اکاؤنٹ بنانے میں دشواری؟ ایپ کا لنک جاری

 

سعودی عرب کے سرکاری و نجی اداروں نے توکلنا ایپ دکھائے بغیر بازاروں اور پبلک مقامات میں داخلے پر پابندی لگادی ہے جس کے باعث بہت سے لوگ توکلنا ایپ ڈاؤن لوڈ کر رہے ہیں۔
بہت سے لوگوں کو توکلنا ایپ میں رجسٹریشن میں مسائل کا سامنا ہے جس کے حل کے لیے توکلنا ایپ نے لنک جاری کر دیا ہے۔
https://ta.sdaia.gov.sa/توکلنا ایپ کی ویب سائٹ میں رجسٹریشن کرنے کے لیے 

سرکاری اداروں، بازاروں اور پبلک مقامات میں توکلنا ایپ کے بغیر داخلے پر پابندی لگانے کے بعد ایپ میں رجسٹریشن کی شرح میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے‘۔
’اس وجہ سے بہت سے لوگوں کو رجسٹریشن میں دقت کا سامنا ہے، بعض لوگوں کی رجٹریشن مسترد ہو رہی ہے‘۔
انتظامیہ نے کہا ہے کہ ’ایسے تمام ٹیکنیکل مسائل کے حل کے لیے صارفین کو چاہئے کہ وہ توکلنا ایپ کی ویب سائٹ پر رجسٹریشن کرائیں‘۔
’توکلنا ایپ کی ویب سائٹ پر اکاؤنٹ کھولنے کے بعد ایپ میں لاگ ان ہوا جاسکتا ہے‘۔
واضح رہے کہ ریاض، تبوک، مشرقی ریجن اور دیگر متعدد ریجنوں کی گورنریٹ کے فیصلے کے مطابق شاپنگ مالز، سرکاری ادارے اور پبلک مقامات میں داخلے کے لیے توکلنا ایپ دکھانا ضروری ہے۔


سعودی عرب نے پاکستان سمیت 20 ملکوں پر عارضی سفری پابندی لگادی

 

سعودی عرب نے بدھ تین فروری سے نئے کورونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے کے لیے پاکستان سمیت بیس ملکوں پر عارضی سفری پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے۔
سعودی وزارت داخلہ نے بیان جاری کرکے کہا ہے کہ سعودیوں، سفارتکاروں، صحت کارکنان اور ان کے اہل خانہ کے سوا تمام افراد 


کے سعودی عرب آنے پر عارضی پابندی لگادی گئی ہے۔
 

لاہور میں شاعر مشرق کا مجسمہ، ’علامہ اقبال کی روح بھی کانپ گئی ہوگی‘

 

لاہور کے گلشن اقبال پارک میں پاکستان کے قومی شاعر علامہ محمد اقبال کا مجسمہ لگایا گیا جس کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہیں۔
علامہ اقبال کے مجسمے کی حالت دیکھ کر سوشل میڈیا پر سینکڑوں صارفین نے مایوسی اور افسوس کا اظہار کیا جبکہ کئی افراد نے علامہ اقبال کے مجسمے کو ان کی توہین قرار دیا۔
مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر علامہ اقبال کے مجسمے کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین حکومت سے سوال کر رہے ہیں کہ کیا واقعی یہ شاعر مشرق کا ہی مجسمہ ہے؟
سینیئر صحافی حامد میر نے ٹویٹ میں علامہ اقبال کے پوتے کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ’جناب ولید اقبال صاحب کیا آپ جانتے ہیں یہ کس کا مجسمہ ہے؟ کیا یہ کہیں سے بھی شاعر مشرق کا مجسمہ نظر آتا ہے؟ آپ کی حکومت کے خیال میں یہ شاعر مشرق ہیں اور کسی سفارشی سے مجسمہ بنوا کر عوام الناس کے لیے اسے گلشن اقبال لاہور میں سجا دیا گیا۔ مجھے تو یہ مجسمہ دیکھ کر بہت افسوس ہوا ہے۔‘
کچھ سوشل میڈیا صارفین کا خیال تھا کہ نئے پاکستان میں علامہ اقبال کو بھی سزا دی گئی ہے۔ ٹوئٹر ہینڈل ڈیفنڈر نے علامہ اقبال کے مجسمے کی تصویر دیکھ کر تبصرہ کیا کہ ’آج تو علامہ اقبال کی روح بھی کانپ گئی ہوگی۔‘
علامہ اقبال کے مجسمے پر بحث کے دوران گفتگو آگے بڑھی تو کچھ سوشل میڈیا صارفین نے مجسمے میں علامہ اقبال کی درست شباہت نظر نہ آنے کو آرٹ سے دوری کا نتیجہ قرار دیا۔ صارف سُر سپارلے نے لکھا کہ ’جب ریاست اختلافی آوازوں کو دبانے کی وجہ سے سوشل سائنس کو نظر انداز کرے گی تو پھر آرٹ کے حوالے سے اس طرح کی افسوسناک صورتحال پیش آتی ہے۔‘
بعض سوشل میڈیا صارفین طنز ومزاح بھی کرتے نظر آئے۔ مجسمے کو دیکھ کر تبصرہ کرنے والے صارفین اس بات کی شکایت بھی کرتے رہے کہ علامہ اقبال کے ہاتھ اور مونچھیں کہاں لگا دی گئی ہیں۔ خالد ایم نامی ٹوئٹر ہینڈل سے لکھا گیا کہ ’معذرت کے ساتھ، یہ علامہ اقبال سے زیادہ موہن جو دڑو کے کسی مجسمے سے مماثلت رکھتا ہے۔‘
کئی سوشل میڈیا صارفین نے مجسمے کی حالت کو پاکستان کی تبدیلی سے جوڑا اور کہا کہ نئے پاکستان میں علامہ اقبال بھی تبدیل کر دیے گئے۔
ٹوئٹر صارف عبدالسلام نے علامہ اقبال کی تصویر شئیر کرتے ہوئے طنز کیا کہ ’نواز شریف کے دور میں کرپشن کی وجہ سے علامہ اقبال ایسے دِکھتے تھے۔ عمران خان کی تبدیلی کی وجہ سے اب حقیقی علامہ اقبال ایسے دِکھتے ہیں۔ نواز شریف نے علامہ اقبال مصنوعی والا بنا دیا تھا جبکہ ہم نے حقیقی۔

اسلام آباد کے سکولوں میں عربی زبان لازمی پڑھانے کے بل کی منظوری

 

پاکستان کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا نے گذشتہ روز پیر کو عربی زبان کی لازمی تعلیم کے بل 2020 کی منظوری دے دی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق مقامی میڈیا نے رپورٹ کی ہے کہ سینیٹ سے  اس بل کی منظوری کے تحت دارالحکومت اسلام آباد کے تمام پرائمری اور ثانوی سکولوں میں عربی زبان پڑھانے کے لیے کلاسز کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔

اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن کے سینیٹر جاوید عباسی کے پیش کئے گئے اس بل پر چھ ماہ کی مدت کے اندرعمل درآمد ہوگا۔
سینیٹ کے تمام ممبروں نےعربی زبان کی ترویج کے لیے اس بل کی منظوری دی تھی تا ہم اپوزیشن پارٹیوں میں شامل پیپلزپارٹی کے رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی رضا ربانی نے اس بل پر اختلافی نوٹ دیا تھا۔
اگلے مرحلے میں اس بل کو قانون بننے کے لئے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم اور پھر سینیٹ اور قومی اسمبلی دونوں کی منظوری کی ضرورت ہے۔
جاوید عباسی نے اس بل  پر ہونے والی بحث کے دوران سینیٹ کے فلور پر کہا ہے کہ اگر ہم قرآن مجید کو معنی اور مفہوم کے مطابق سمجھ کر پڑھتے ہیں تو ہمیں کبھی بھی ایسی مشکلات سے نہ گذرنا پڑے جن کا ہمیں سامنا ہے۔
سینیٹر جاوید عباسی نے مزید کہا کہ عربی زبان 25  سے زیادہ ممالک کی سرکاری زبان ہے۔
عربی  زبان  سیکھنے سے  مشرق وسطی میں پاکستانیوں کو روزگار کے زیادہ مواقع میسر آئیں گے اور ملک میں  بے روزگاری پر قابو پائے جانے کے ساتھ ترسیلات  زر  کا بھی باعث بنے گی۔
پارلیمانی امور کے وزیر مملکت علی محمد خان نے  جاوید عباسی سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بل کی "واضح طور پر حمایت" کی ہے۔
علی محمد  نے مزید کہا  ہےکہ آئین کے آرٹیکل 31 کے مطابق  "ہمیں قرآن کریم اور سنت مبارکہ کے مطابق  اپنی زندگی گزارنے کے لئے اقدامات کیے جانے چاہئیں۔"
تاہم رضا ربانی نے کہا  ہےکہ  پاکستان میں قانون سازی  کے لیے سیاسی ایجنڈے کے حصول کے لئے اسلام کے نام  کو استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی  ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح  کرنے سے پاکستان کا کثیر الثقافتی اور کثیر لسانی  تشخص ختم ہوجائے گا۔
 

سعودی عرب سے پاکستانی اپنے رشتے داروں کو گاڑی کیسے گفٹ کر سکتے ہیں؟

 

سعودی عر ب و دیگر ممالک میں مقیم اوورسیز پاکستانی استعمال شدہ گاڑی دو سال میں ایک مرتبہ اپنے قریبی رشتے داروں کو پاکستان بھیج سکتے ہیں۔

جس کی نوعیت دو طرح کی ہو سکتی ہے جس میں گفٹ سکیم اور پرسنل بیگج یعنی ذاتی سامان جو خروج نہائی (ایگزٹ ) پر بھیجا جانا شامل ہیں۔
اس سکیم کے تحت بھیجی جانے والی گاڑی جو پانچ سیٹر ہو وہ تین سال اور سات سیٹر پانچ سال سے زیادہ پرانی نہیں ہونی چاہیے۔
پاکستانی سفارتخانے یا قونصلیٹ کا کمرشل سیکشن وہیکل امپورٹ فارم جاری کرتا ہے جس کے تحت گاڑی پاکستان میں اپنے کسی خونی رشتے دار کو گفٹ کی جا سکتی ہے۔
 قونصلیٹ کے متعلقہ ترجمان نے اردونیوز کو بتایا کہ ’لوگوں میں عام تاثر یہ ہے کہ گفٹ سکیم کے تحت بھیجی جانے والی گاڑی ڈیوٹی فری ہوگی لیکن ایسا نہیں ہے تاہم پرانی گاڑی کے حساب سے کسٹم ڈیوٹی وصول کی جاتی ہے۔‘
’کسٹم ٹیوٹی کی ادائیگی کے لیے مملکت سے گاڑی بھیجنے والے کو ڈیوٹی کی رقم بھی باہر سے ٹرانفسر کرنا ضروری ہے۔ گاڑی پاکستان پہنچنے پر ڈیوٹی وصول کی جائے گی۔‘
 مزید برآں گاڑی کے پاکستان پہنچنے پر کسٹم حکام سفارتخانے یا قونصلیٹ کی طرف سے دیے گئے لیٹر کی بنیاد پر گاڑی کے حساب سے ڈیوٹی کی کیلکولیشن کرتے ہیں۔ اس طرح گاڑی کی منتقلی کا پروسس مکمل کیا جاتا ہے۔
یاد رہے اوورسیز پاکستانی دو سال کے بعد ایک مرتبہ گاڑی امپورٹ کرنے کے مجاز ہیں اور یہ گاڑی پاکستان اپنے قریبی رشتے دار کو گفٹ سکیم کے تحت بھیجی جا سکتی ہے۔
 گاڑی پاکستان بھیجنے کے لیے ماہانہ انکم کی کوئی کم ازکم حد مقرر نہیں تاہم درخواست گزار کا مملکت میں قیام مسلسل دو سال یا اس سے زیادہ ہونا چاہیے۔

گاڑی گفٹ سکیم کے لیے دستاویزات 

 اقامہ کی کاپی۔
ماہانہ آمدن کا سرٹیفکیٹ جو کہ چیمبر آف کامرس ( غرفہ تجاریہ) سے تصدیق شدہ ہو۔

اوورسیز پاکستانی دو سال کے بعد ایک مرتبہ گاڑی امپورٹ کرنے کے مجاز ہیں۔ (فوٹو: ٹوئٹر)

 پاسپورٹ کی کاپی جس پر سعودی عرب میں پہلی بار آنے کی مہر لگی ہو۔
گاڑی جسے پاکستان میں گفٹ کیا جا رہا ہوں یعنی نامزد شخص کے شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی۔
گاڑی گفٹ سکیم کے لیے فارم سفارتخانے اور قونصلیٹ کے کمرشل سیکشن سے جاری کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ گاڑی گفٹ سکیم کے طریقہ کار کو اوورسیز پاکستانیو ں کے لیے آسان اور شفاف بنایا گیا ہے۔ مطلوبہ تصدیق شدہ دستاویزات جمع کرانے کے بعد سفارتخانے یا قونصلیٹ کی جانب سے فوری طور پر لیٹر جاری کیا جا رہا ہے۔

سعودیہ میں پولیس اہلکار کے رُوپ میں وارداتیں کرنے والا پاکستانی گرفتار


ملزم نے مکہ مکرمہ، تبوک، مدینہ، ریاض، قصیم اور حائل میں متعدد وارداتیں انجام دیں

 

ریاض(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔یکم فروری2021ء) سعودی عرب میں مقیم لاکھوں پاکستانی سالانہ اربوں روپے کا زر مبادلہ پاکستان بھیج کر اس کی کمزور معیشت کو بڑا سہارا دے رہے ہیں، وہیں سعودی عرب کی ترقی اور خوشحالی میں بھی ان کا بڑا کردار ہے۔ تاہم مملکت میں مقیم چند سو مجرمانہ خصلت کے پاکستانیوں کی جانب سے آئے روز چوری، ڈکیتی اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کی وجہ سے باقی کے لاکھوں پاکستانی تارکین کو بھی سُبکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ایک ہفتے میں عام طور پر پاکستانیوں کی جانب سے پانچ سات وارداتوں کی خبریں سامنے آنا معمول بنا چکا ہے۔ریاض پولیس نے ایک اور پاکستانی کو گرفتار کر لیا ہے جو پولیس اہلکار کا روپ دھار کر مقامی افراد اور تارکین کے ساتھ کئی وارداتیں کر چکا تھا۔

ملزم بڑی ہوشیاری سے وارداتیں انجام دیتا تھا۔ تاہم پولیس نے اس کا سراغ لگا کر اسے گرفتار کر لیا ہے۔

ملزم کا ایک اور طریقہ واردات یہ تھا کہ وہ آن لائن سامان کے نام پر فراڈکرتا تھا۔ لوگوں سے ملاقات کا وقت طے کر ملنے کے بعد قیمت وصول کر کے غائب ہو جاتا تھا۔ ملزم نے تفتیش کے دوران بتایا کہ اس نے مکہ، مدینہ، ریاض، قصیم، تبوک اور حائل میں 11 وارداتوں کا اعتراف کیا ہے۔ ملزم نے مختلف وارداتوں کے دوران 46 ہزار درہم سے زائد رقوم دھوکا دہی سے حاصل کیں۔

ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرکے پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کردیا گیا۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ریاض میں پولیس نے انوکھے ڈھنگ کی چوری کی وارداتیں کرنے والا 8 رُکنی گینگ گرفتار کر لیا ہے جس میں ایک پاکستانی اور 7 سعودی شہری شامل ہیں۔ ملزمان ٹریفک حادثہ کر کے گاڑیاں چُرانے کی کئی وارداتیں کر چکے تھے۔ پولیس کے مطابق یہ گینگ گاڑی پر سوار ہو کر آگے جاتی گاڑی کو ٹکر مارتا۔

اس کے بعد حادثے کا شکار ہونے والی گاڑی کے ڈرائیور کو روک کر باہر نکلنے پر مجبور کیا جاتا۔ گینگ کے دو تین ارکان اس ڈرائیور کو حادثے کا ذمہ دار ٹھہرا کر جھوٹ موٹ کی بحث و تکرار میں اُلجھا لیتے۔ اسی دوران کوئی ایک کارندہ اس کی گاڑی لے کر فرار ہو جاتا۔ یہ لوگ گاڑی کو ریاض کے نواحی علاقے السویدی کے جنگلات میں لے جا کر چھُپا دیتے۔ اورپھر اس کے پرزے نکال کر باقی ماندہ کار کو سکریپ میں بیچ دیتے۔ ملزمان کا سراغ لگا کر انہیں گرفتار کیا گیا تو انہوں نے 13 وارداتوں کا اعتراف کیا۔ چوری کی گئی متعدد گاڑیاں بھی برآمد کر لی گئی ہیں۔ 

پاکستانی سفارتحانوں سے مینوئل ویزوں کا اجرا بند، آن لائن جاری ہوں گے

 

سعودی عرب میں پاکستانی سفارتخانے اور قونصلیٹ سمیت دنیا بھر کے پاکستانی مشنز نے وفاقی وزارت داخلہ کی ہدایت پر 31 جنوری سے مینوئل ویزوں کا اجرا بند کر دیا ہے۔
ریاض میں پاکستانی سفارتخانے اور جدہ میں قونصلیٹ کی جانب سے جاری بیان میں تمام درخواست گزاروں سے کہا گیا ہے کہ وہ آن لائن ویزا پورٹل پر ویزے کے لیے اپلائی کریں۔
قونصلیٹ کے ترجمان نے اردونیوز کو بتایا کہ یکم فروری سے ویزے کے لیے آن لائن درخواستیں دی جا سکیں گی اور ایک ہفتے میں ویزا پروسس ہوجائے گا۔
اگر کوئی اعتراض ہوا تودرخواست گزار کو انٹرویو کے لیے بلایا جائے گا۔
یاد رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ شیخ  رشید نے 152 ملکوں کے لیے آن لائن ویزے جاری کرنے کا اعلان کیا تھا۔ 
شیخ رشید کا کہنا تھا وزیراعظم نے فیصلہ کیا ہے کہ ’آن لائن ویزے کے لیے کوئی بھی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے، اگر کوئی آدمی سٹیکر کا پوچھے تو ان سے براہ راست رابطہ کریں۔‘

ایک گھر کے افراد اور گھریلو ملازمین کا ’توکلنا ایپ‘ میں اندراج کیسے


سعودی عرب میں ’توکلنا‘ ایپ کی انتظامیہ نے ایک ہی گھر میں رہنے والے گھریلو ملازمین اور اہل وعیال کو شامل کرنے سے متعلق تکنیکی دشواری حل کر دی ہے۔

عاجل ویب سائٹ کے مطابق ایک غیرملکی نے استفسار کیا تھا کہ ’میرے بیٹے کی عمر تین برس ہے۔ توکلنا ایپ پر وہ میرے اکاؤنٹ میں نظر آتا ہے حالانکہ وہ اپنا بیشتر وقت میری اہلیہ کے ساتھ رہتا ہے۔ آیا کوئی ایسا طریقہ کار اپنایا جا سکتا ہے جسے استعمال کرکے بیٹے کو اس کی ماں کی ایپ میں شامل کیا جا سکے۔‘
اس غیرملکی کا مزید کہنا تھا کہ ’مسئلہ یہ ہے کہ میں اپنی بیوی کا کفیل نہیں ہوں بلکہ وہ ایک ادارے کی ملازمہ ہے اور اسی کی کفالت میں ہے۔‘ 
توکلنا ایپ نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر بتایا کہ سعودی شہری ہوں یا مقیم غیرملکی، ان کے اس مسئلے کو حل کردیا گیا ہے۔ اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ پہلے توکلنا ایپ میں’الخدمات‘ کا انتخاب کریں۔ 
وہاں پر’افراد الاسرہ والمکفولین‘ فیملی اور زیر کفالت افراد کے خانے کا رخ کریں۔ 
ایک ہی گھر میں رہنے والے گھریلو ملازم بھی یہی طریقہ کار اختیار کرسکتے ہیں۔
اولاد اور گھریلو ملازمین کے خانے میں ترمیم ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد نیا گھریلوعملہ ہو یا اہل وعیال ہوں، ایپ میں متعلقہ فرد کے خانے میں ہی ظاہر ہوں گے۔

 


غیر ملکی ورکرز کے رہائشی مراکز کے لیے اجازت نامے

 

سعودی عرب میں سیکریٹری بلدیات و دیہی و آبادی امور ڈاکٹر احمد قطان نے کہا ہے کہ غیرملکی ورکرز کی رہائشی مراکز پر کورونا وائرس سے بچاؤ کے  لیے مقرر ایس او پیز کی دو ہزار خلاف ورزیاں ریکارڈ پر آئی ہیں۔
بازاروں، تجارتی مراکز، پبلک مقامات پر اجتماعات اور ورکرز کی رہائش پر حد سے زیادہ تعداد میں قیام جیسی خلاف ورزیاں سامنے آئی ہیں۔
سیکریٹری بلدیات و دیہی و آبادی امور نے لوگوں سے کہا کہ وہ وزارت صحت سے رجوع کرکے ایس او پیز کی تفصیلات دریافت کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ نجی اداروں سے کہا تھا کہ وہ غیرملکی ورکرز کی رہائش کے لیے جلد از جلد اجازت نامے حاصل کریں۔  ’بلدی گیٹ‘ کے ذریعے درخواست دی جا سکتی ہے جو لوگ غیرملکی ورکرز کی رہائش کے لیے مقرر اجازت نامے حاصل نہیں کریں گے ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔ 

UAE Breaking NEWS TODAY | | AGAIN LOCKDOWN IN DUBAI UAE | Stay with Rizwan

Saudi Crown Prince announces ‘The Line’ city project at NEOM | Stay With...

Saudi Arabia | In which cases should Pakistanis residing in Saudi Arabia...