Select Menu

کومینٹ

» » سعودیہ میں پولیس اہلکار کے رُوپ میں وارداتیں کرنے والا پاکستانی گرفتار


ملزم نے مکہ مکرمہ، تبوک، مدینہ، ریاض، قصیم اور حائل میں متعدد وارداتیں انجام دیں

 

ریاض(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔یکم فروری2021ء) سعودی عرب میں مقیم لاکھوں پاکستانی سالانہ اربوں روپے کا زر مبادلہ پاکستان بھیج کر اس کی کمزور معیشت کو بڑا سہارا دے رہے ہیں، وہیں سعودی عرب کی ترقی اور خوشحالی میں بھی ان کا بڑا کردار ہے۔ تاہم مملکت میں مقیم چند سو مجرمانہ خصلت کے پاکستانیوں کی جانب سے آئے روز چوری، ڈکیتی اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کی وجہ سے باقی کے لاکھوں پاکستانی تارکین کو بھی سُبکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ایک ہفتے میں عام طور پر پاکستانیوں کی جانب سے پانچ سات وارداتوں کی خبریں سامنے آنا معمول بنا چکا ہے۔ریاض پولیس نے ایک اور پاکستانی کو گرفتار کر لیا ہے جو پولیس اہلکار کا روپ دھار کر مقامی افراد اور تارکین کے ساتھ کئی وارداتیں کر چکا تھا۔

ملزم بڑی ہوشیاری سے وارداتیں انجام دیتا تھا۔ تاہم پولیس نے اس کا سراغ لگا کر اسے گرفتار کر لیا ہے۔

ملزم کا ایک اور طریقہ واردات یہ تھا کہ وہ آن لائن سامان کے نام پر فراڈکرتا تھا۔ لوگوں سے ملاقات کا وقت طے کر ملنے کے بعد قیمت وصول کر کے غائب ہو جاتا تھا۔ ملزم نے تفتیش کے دوران بتایا کہ اس نے مکہ، مدینہ، ریاض، قصیم، تبوک اور حائل میں 11 وارداتوں کا اعتراف کیا ہے۔ ملزم نے مختلف وارداتوں کے دوران 46 ہزار درہم سے زائد رقوم دھوکا دہی سے حاصل کیں۔

ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرکے پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کردیا گیا۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ریاض میں پولیس نے انوکھے ڈھنگ کی چوری کی وارداتیں کرنے والا 8 رُکنی گینگ گرفتار کر لیا ہے جس میں ایک پاکستانی اور 7 سعودی شہری شامل ہیں۔ ملزمان ٹریفک حادثہ کر کے گاڑیاں چُرانے کی کئی وارداتیں کر چکے تھے۔ پولیس کے مطابق یہ گینگ گاڑی پر سوار ہو کر آگے جاتی گاڑی کو ٹکر مارتا۔

اس کے بعد حادثے کا شکار ہونے والی گاڑی کے ڈرائیور کو روک کر باہر نکلنے پر مجبور کیا جاتا۔ گینگ کے دو تین ارکان اس ڈرائیور کو حادثے کا ذمہ دار ٹھہرا کر جھوٹ موٹ کی بحث و تکرار میں اُلجھا لیتے۔ اسی دوران کوئی ایک کارندہ اس کی گاڑی لے کر فرار ہو جاتا۔ یہ لوگ گاڑی کو ریاض کے نواحی علاقے السویدی کے جنگلات میں لے جا کر چھُپا دیتے۔ اورپھر اس کے پرزے نکال کر باقی ماندہ کار کو سکریپ میں بیچ دیتے۔ ملزمان کا سراغ لگا کر انہیں گرفتار کیا گیا تو انہوں نے 13 وارداتوں کا اعتراف کیا۔ چوری کی گئی متعدد گاڑیاں بھی برآمد کر لی گئی ہیں۔ 

پاک اردو ٹیوب stay with rizwan

ہ۔ یہ ایک فرضی تحریر ہے یہاں پر آپ اپنا تعارف لکھ سکتے ہیں۔
«
Next
Newer Post
»
Previous
Older Post

No comments:

اپنا تبصرہ تحریر کریں توجہ فرمائیں :- غیر متعلقہ,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, ادارہ ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز ادارہ کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں